3 نومبر 2011 - 20:30

مشرقی افغانستان کی چیک پوسٹوں سے امریکی فوجیوں کی روانگی کے پیش نظر پاکستانی طالبان نے پاکستان کے شمالی حصے میں نئے محاذکھول دیئے ہیں۔

ابنا: مشرقی افغانستان کی چیک پوسٹوں سے امریکی فوجیوں کی روانگی کے پیش نظر پاکستانی طالبان نے پاکستان کے شمالی حصے میں نئے محاذکھول دیئے ہیں۔ اور سرحد پار حملوں میں درجنوں سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ اخبار نےپاکستانی فوج کے حوالے سے کہا ہے کہ دیر اور چترال کے شمالی علاقے جنہیں شدت پسندوں سے خالی کرالیا گیا تھا، گزشتہ چند ماہ میں شدت پسندوں کی دوبارہ کارروائیوں کی وجہ کم از کم 4 ہزار فوجی تعینات کئے گئے۔ پاک فوج کے لئے اب دیر اور چترال ایک بڑا چیلنج ہے۔ گزشتہ تین مہینوں میں شمالی علاقے میں سڑک کے کنارے بم دھماکوں اور دیگر حملوں میں فوج ، پولیس اور نیم فوجی دستوں کے 100 جوان شہید ہوگئے۔طالبان شدت پسندوں کی کارروائیوں میں اضافے نے2014میں نیٹو فورسز کے انخلاء کے بعد کی صورت حال پر سوالات اٹھا دیئے ہیں۔نورستان اور کنڑ کے علاقے عسکریت پسندوں کے گڑھ بن چکے ہیں۔ نورستان سے پارلیمنٹ کے رکن کا کہنا ہے کہ پاکستانی طالبان عسکریت پسند مقامی لوگوں سے زبردستی ٹیکس لیتے ہیں اور پیٹرول اور دیگر اشیاء پر رعایات حاصل کرتے ہیں۔ طالبان کے کنٹرول علاقوں میں اسکولوں اور کلینکوں کو بند کردیا گیا ہے۔اخبار کے مطابق امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد خطے میں مزید عام لوگوں شدت پسندوں کے ساتھ مل جائیں گے۔افغان فورسز کنڑ اور نورستان کا کنٹرول سنبھالنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں ۔.............

/169